الحکمۃ

حضرت امیر معاویہؓ پر لگائی جانے والی بدعات کا علمی جائزہ: اعتراضات کا تعاقب

تعارف: صحابہ کرام کی حرمت پر حملے اور اہل سنت کا دفاع 

 

کچھ دن قبل ہم نے ایک "عبداللہ حسن” نامی مجہول فیسبکی کے ایک اعتراض کا رد کیا تھا۔ آج اس نے پھر سے ایک نیا اعتراض داغ دیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی دشمنی میں سنت کو چھوڑ کر بدعات شروع کیں۔ اس سلسلہ وار پوسٹ کی پہلی قسط میں اس نے 4 بدعتیں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جن کا علمی رد ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ان اختلافات کو صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے صحابہ کرام کے باہمی اختلافات اور حضور اکرم ﷺ کی تصریحات کا مطالعہ کریں۔

 

پہلی بدعت: بیٹھ کر خطبہ دینا (تحقیق اور رد)

 

عبداللہ حسن کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ دینے کا آغاز کیا، اور اس پر مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت نقل کی:

  • سند: حدثنا جریر، عن مغیرہ عن الشعبی قال
  • متن: شعبی کہتے ہیں سب سے پہلے بیٹھ کر خطبہ حضرت امیر معاویہؓ نے دیا، لیکن یہ اس وقت ہوا جب وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور پیٹ بڑھ گیا تھا.

اس مجہول فیسبکی کا دعویٰ ہے کہ "اس کی سند صحیح ہے”۔

 

علمی رد: روایت کی حقیقت 

 

یہ روایت سخت ضعیف و باطل ہے، کیونکہ اس کا راوی "مغیرہ بن مقسم” مدلس ہے، اور اس نے "عن” سے روایت کیا ہے (جو تدلیس کی صورت میں حدیث کو ضعیف بناتا ہے)۔

  • امام ابن حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: "یہ تدلیس کرتا تھا” (تقریب التہذیب، جلد 2، صحفہ 206)۔

ان علمی مباحث اور راویوں کے مراتب کو سمجھنے کے لیے کتبِ احادیث کے اہم اسماء اور ان کی اقسام سے متعلق ہماری پوسٹ پڑھنا مفید ہوگا۔

  • امام ابن حجرؒ نے اسے مدلسین کے تیسرے طبقہ میں شامل کیا اور فرمایا: "امام نسائیؒ نے اس کا تذکرہ تدلیس کی وجہ سے کیا ہے” (تعریف اھل التقدیس، صحفہ 46)۔
  • تیسرے طبقہ کے مدلسین کے بارے میں امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "یہ وہ مدلسین ہیں کہ جن کی معنعن احادیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا، جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں ان کی روایات مطلقاً رد کی جاتی ہیں” (تعریف اھل التقدیس، صحفہ 13

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اور حضرت امیر معاویہؓ بیٹھ کر خطبہ نہیں دیتے تھے۔

 

درست اور صحیح روایت

 

اس کے برعکس ایک صحیح روایت موجود ہے جس میں بس ایک بار ایک عذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دینے کا ذکر ہے:

  • امام ابن ابی عاصم نقل فرماتے ہیں: "ابو اسحاق السبیعی کہتے ہیں کہ سب سے پہلے معاویہؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا اور لوگوں کے پاس آ کر عذر پیش کیا کہ مجھے پیروں کی شکایت ہے” (الاحاد والمثانی، جلد 1، صحفہ 380)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے صرف ایک بار بیٹھ کر خطبہ دیا تھا، اور عذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دینا تو کیا بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔

اور ویسے بھی ہم احناف کے نزدیک جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دینا دونوں طرح جائز ہے، اور اس میں کوئی اعتراض والی بات نہیں ہے۔

 

دوسری بدعت: عید کی نماز سے قبل خطبہ (تحقیق اور رد) 

 

اس مجہول شخص کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ عید کا خطبہ نماز کے بعد دیا جاتا ہے لیکن حضرت امیر معاویہؓ نے عید کی نماز سے پہلے خطبہ دیا، اس پر اس نے مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت نقل کی:

  • سند: عبد الرزاق، عن ابن جریج قال، قال ابن شھاب
  • متن: "ابن شہاب زہری کہتے ہیں (عید کی) نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز حضرت معاویہؓ نے کیا”۔
    • (المصنف عبد الرزاق، جلد 2، صحفہ 5646)

اس روایت کے بارے میں بھی مجہول کا کہنا ہے کہ "اس کی سند عاجز عبداللہ حسن کی نظر میں صحیح ہے”۔

 

علمی رد: روایت کا انقطاع 

 

جبکہ یہ روایت بھی منقطع باطل ہے، کیونکہ ابن شہاب زہری نے حضرت امیر معاویہؓ سے سماع نہیں کیا۔

  • امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: "زہری سنہ 50 ہجری اور ایک قول کے مطابق سنہ 51 ہجری میں پیدا ہوئے” (سیر اعلام النبلا، جلد 5، صحفہ 326)۔
  • اور حضرت امیر معاویہؓ کی وفات سنہ 60 ہجری میں ہوئی۔
  • 9 یا 10 سال کی عمر میں زہری کا مدینہ سے دمشق جا کر حضرت امیر معاویہؓ سے سماع کرنا ثابت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت منقطع ہے۔

 

متن کی ایک اور منکر روایت کا رد 

 

اسی متن کی ایک اور روایت بھی موجود ہے (جو اس مجہول نے ذکر نہیں کی) لیکن اس کا رد بھی بیان کر دیتے ہیں:

  • مسند الشافعی میں روایت ہے کہ:

    سند: اخبرنا ابراہیم بن محمد حدثنی داود بن حصین عن عبداللہ بن یزید الخطمی

    • متن: "عبداللہ بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ، ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ (عید کی) نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے یہاں تک کہ معاویہؓ آئے اور انہوں نے خطبہ پہلے دیا”۔
      • (مسند الشافعی، صحفہ 75)

یہ روایت بھی موضوع ہے، اس میں دو علتیں ہیں:

پہلی علت: اس کا راوی "ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی” کذاب و متروک الحدیث ہے۔

  • امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: "امام مالک سے پوچھا گیا کہ یہ حدیث میں ثقہ ہے یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا یہ تو اپنے دین میں بھی ثقہ نہیں، قطان کہتے ہیں یہ کذاب ہے، امام احمدؒ کہتے ہیں محدثین نے اسے ترک کر دیا تھا یہ ایسی احادیث روایت کرتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، امام بخاریؒ کہتے ہیں عبداللہ بن مبارکؒ اور دیگر حضرات نے اسے متروک قرار دیا ہے، امام احمدؒ مزید کہتے ہیں اس میں ہر خرابی موجود تھی لوگوں نے اس کی احادیث کو ترک کر دیا، یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کذاب اور رافضی ہے، علی بن مدینیؒ کہتے ہیں یہ کذاب تھا اور امام نساٸیؒ، امام دارقطنیؒ اور دیگر حضرات نے بھی اسے متروک قرار دیا ہے” (میزان الاعتدال، جلد 1، صحفہ 106)۔
  • امام ذہبیؒ اس کے بارے میں "دیوان الضعفاء” میں کہتے ہیں: "جمہور کے نزدیک یہ متروک ہے، اور ابو داود کہتے ہیں یہ رافضی ہے” (دیوان الضعفاء والمتروکین، صحفہ 20)۔

دوسری علت: اس روایت کے راوی "داود بن حصین” کا "حضرت عبداللہ بن یزید الخطمیؓ” سے سماع ثابت نہیں۔

  • داود بن حصین سنہ 63 ہجری میں پیدا ہوا۔
  • حافظ مزیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: "یہ سنہ 135 ہجری میں 72 سال کی عمر میں فوت ہوا (یعنی سنہ 63 ہجری میں پیدا ہوا تھا)” (تہذیب الکمال فے اسما الرجال، جلد 8، صحفہ 382)۔
  • اور حضرت عبداللہ بن یزیدؓ کی وفات سنہ 70 ہجری سے پہلے ہوئی جیسا کہ امام ذہبیؒ نقل فرماتے ہیں کہ: "حضرت عبداللہ بن یزید الخطمیؒ کی وفات سنہ 70 ہجری سے پہلے ہوئی” (سیر اعلام النبلا، جلد 3، صحفہ 197،198)۔
  • تو داود بن حصین کا 7 یا 8 سال کی عمر میں حضرت عبداللہ بن یزیدؓ سے سماع ثابت نہیں۔

ان وجوہات کی بنا پر یہ روایت بھی موضوع ہے، اور عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کی نسبت حضرت امیر معاویہؓ کی طرف کرنا درست نہیں۔

اس کے برعکس جو صحیح روایت موجود ہے اس میں یہ ہے کہ یہ کام سب سے پہلے "مروان بن حکم” نے اپنے دور میں شروع کیا (صحیح مسلم، حدیث 177، 2053)۔

 

تیسری بدعت: عید کی نماز کے لیے اذان دلوانا (تحقیق اور رد) 

 

تیسرا اعتراض اس مجہول کا یہ تھا کہ حضرت معاویہؓ نے عید کی نماز کے لیے اذان دلوائی، اس اعتراض پر اس نے بطورِ دلیل مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت پیش کی:

  • سند: حدثنا وکیع، حدثنا ھشام الدستوانی، عن قتادہ عن ابن المسیب قال
  • متن: حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں کہ عیدین میں سب سے پہلے اذان حضرت معاویہؓ نے دلوائی۔
    • (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 11، صحفہ 36905)

اس روایت کے بارے میں بھی مجہول کا کہنا ہے کہ "اس کی سند صحیح ہے”۔

 

علمی رد: روایت کی تدلیس 

 

جبکہ یہ روایت بھی باطل ہے، اس سے استدلال جائز نہیں۔

  • اس روایت کا راوی "قتادہ بن دعامة السدوسی” مدلس ہے اور "عن” سے روایت کر رہا ہے (قتادہ عن ابن المسیب)۔
  • امام ابن حجرؒ نے قتادہ کو "تیسرے طبقہ” کے مدلسین میں شامل کیا اور فرمایا: "یہ تدلیس کی وجہ سے مشہور ہیں” (تعریف اھل التقدیس، صحفہ 43)۔
  • اور تیسرے طبقہ کے مدلس کی "معنعن” روایت قبول نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ ہم بیان کر چکے کہ تیسرے طبقہ کے مدلسین کے بارے میں ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "یہ وہ مدلسین ہیں کہ جن کی معنعن احادیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا، جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں ان کی روایات مطلقاً رد کی جاتی ہیں” (تعریف اھل التقدیس، صحفہ 13)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی باطل ہے اور اس سے بھی استدلال جائز نہیں۔

 

چوتھی بدعت: نماز کی تکبیرات کو ترک کرنا (تحقیق اور رد) 

 

اس مجہول کا چوتھا اعتراض یہ تھا کہ حضرت معاویہؓ نے نماز کی تکبیرات کو ترک کر دیا تھا، اس اعتراض پر اس نے ابی عروبة کی کتاب سے ایک روایت پیش کی:

  • سند: حدثنا محمد بن یحیی القطعی، وابو الخطاب الحسانی، والفضل بن یعقوب الجزری قالوا، اخبرنا عبدالاعلی عن محمد بن اسحاق، حدثنی علی بن یحیی بن خلاد، عن ابیہ ال سمعت ابا ھریرہ
  • متن: "یحییٰ بن خلاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو سنا وہ خلاد بن نافع کو نبیﷺ کی نماز کے بارے میں بتا رہے تھے، کہ جب نبیﷺ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، تو خلاد نے پوچھا کہ سب سے پہلے اس چیز کو کس نے ترک کیا تو (ابوہریرہؓ نے) کہا، معاویہؓ نے”۔
    • (کتاب الاوائل، صحفہ 175)

اس روایت کو بھی بیان کر کے مجہول نے یہ دعویٰ کیا کہ "اس کی سند عاجز عبداللہ کی نظر میں صحیح ہے”۔

 

علمی رد: روایت کا منکر ہونا 

 

جبکہ یہ روایت بھی منکر ہے۔

  • کیونکہ اس کے راوی "محمد بن اسحاق بن یسار” صدوق ہیں مگر ان سے ایسی منفرد روایات منقول ہیں جو منکر ہیں۔
  • امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں نقل فرماتے ہیں کہ: "یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے اور بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے، (مزید کہتے ہیں) جن روایات کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہے ان میں کچھ منکر روایات بھی منقول ہیں کیونکہ اس کے حافظہ میں کچھ خرابی تھی” (میزان الاعتدال، جلد 6، صحفہ 92،93)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی منکر ہے کیونکہ محمد بن اسحاق اس روایت کو بیان کرنے میں بھی منفرد ہیں اور یہ متن صرف اسی سند سے منقول ہے، اور صدوق راوی کا تفرد روایت کو منکر بناتا ہے۔ اس لیے اس روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

 

خلاصہ: باطل اعتراضات کی حقیقت اور اہل سنت کا موقف 

 

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جاہل مجہول کے تمام اعتراضات باطل ہیں جو اس نے حضرت امیر معاویہؓ کی نبیﷺ کی سنت سے دشمنی ثابت کرنے کے لیے بیان کیے۔

اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ہم اہلسنت کے نزدیک اگر کوئی صحابی کوئی نیا عمل شروع کرتا ہے تو وہ بدعت نہیں ہوتا نہ ہی وہ رسول ﷺ کی سنت کی دشمنی کہلاتا ہے بلکہ بدعتِ حسنہ و سنت ہی کہلاتا ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی اور اپنے خلفاء کی سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ان مجہولین کے ایسے فضول باطل اعتراضات کی کوئی وقعت نہیں، یہ جہلاء ایسی باطل روایات کا سہارا ہی لیتے ہیں صحابہ پر زبان درازی کرنے کے لیے۔

ہم دوبارہ سے اس مجہول عبداللہ حسن کو یہی مشورہ دیں گے کہ کوئی اچھی سی عینک خرید لے کیونکہ اس کی نظر بہت خراب ہو چکی ہے جو اس کو ہر موضوع و منکر روایت "صحیح الاسناد” نظر آتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ایسے جہلاء کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

تحقیق ازقلم: مناظر اہلسنت وجماعت محمد ذوالقرنین الحنفی الماتریدی البریلوی ✍

ایک تبصرہ چھوڑیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe Now

We let you receive the latest information on Islam, as well as offers, tips, and updates.
اوپر تک سکرول کریں۔