الحکمۃ

"آل محمد کل تقی” (آلِ محمد ہر پرہیزگار شخص ہے) کا تحقیقی جائزہ

تعارف: روایت کی حقیقت اور محدثین کی تحقیق

 

"آل محمد کل تقی” کی روایت ایک ایسی حدیث ہے جو عموماً سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے پیش کی جاتی ہے۔ یہ روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تین مختلف اسانید کے ساتھ مروی ہے۔ اس تحریر میں ہم ان تمام طرق کا ذکر کریں گے، ہر سند میں موجود راویوں پر جرح و تعدیل اور محدثین کے کلام کا جائزہ لیں گے، اور آخر میں محدثین کرام کی طرف سے اس روایت کے مفہوم و معنیٰ کی وضاحت بیان کریں گے۔

پہلا طریق: نعیم بن حماد کا تفرد

 

امام طبرانی رحمہ اللہ (م 360ھ) اپنی سند سے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ الْكَبَّاشُ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالَ: «كُلُّ تَقِيٍّ» ، وَقَالَ (وَتَلَا) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ}

ترجمہ:

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: آلِ محمد کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہر پرہیزگار (متقی)۔ اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں﴾ [سورۃ الأنفال: 34]

📕 المعجم الصغير للطبراني 1/199 رقم 318

امام طبرانیؒ اس کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے صرف نوح نے روایت کیا ہے، اور اس کو (نوح سے) صرف نعیم نے ہی (اکیلے) روایت کیا ہے۔”

 

سندی جائزہ: راویوں پر محدثین کا کلام

 

اس  حدیث "آل محمد کل تقی” کی سند میں دو بڑے مسائل ہیں:

  1. نعیم بن حماد: یہ راوی صدوق تو ہے، مگر "يخطئ كثيرا” (روایتوں میں بہت غلطی کرتا تھا)۔
  2. نوح بن ابی مریم: یہ راوی انتہائی ضعیف ہے، جس پر محدثین نے حدیث وضع (گھڑنے) تک کی جرح کی ہے۔
  • امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: "وہ کچھ بھی نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔”
  • ابو حاتم، مسلم بن الحجاج، ابو بشر الدولابی اور دارقطنی نے کہا: "وہ متروک الحدیث ہے۔”
  • امام حاکمؒ نے ذکر کیا کہ اس نے "قرآن کے فضائل کے بارے میں حدیثیں گھڑیں”۔
  • امام ابنِ حبانؒ نے کہا: "وہ اسناد کو الٹ پلٹ دیا کرتا تھا… کسی بھی حال میں اس سے (حجت) جائز نہیں۔”

نتیجہ: یہ طریق ضعیف جدا ہے اور اس سے استدلال کرنا جائز نہیں۔

 

ایک اور سند: محمد بن مزاحم کی متابعت

 

مسند دیلمی میں اسی روایت کا ایک اور طریق ذکر ہے جہاں نوح بن ابی مریم کی جگہ محمد بن مزاحم ہیں، لیکن اس میں بھی راویوں پر جرح موجود ہے:

قال: أخبرنا أحمد ابن خلف كتابة، أخبرنا الحاكم، أخبرنا محمد بن القاسم العتكي، حدثنا محمد بن أشرس، حدثنا عمر بن عقبة، حدثنا محمد بن مزاحم، حدثنا النضر بن محمد الشيباني، عن يحيى بن سعيد عن أنس قال : سئل رسول الله ﷺ من آل محمد ؟ فقال: آل محمد كل تقي…الخ

📕 الغرائب المنتقطة من مسند الفردوس لابن حجر 1/446 رقم 172

  • اس سند میں راوی "محمد بن أشرس النيسابوري” پر جرح ہے۔
  • امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث میں متہم ہے۔” اور حافظ ابو عبداللہ بن الأخرم اور دیگر محدثین نے اسے ترک کر دیا۔
  • امام دارقطنیؒ نے اسے ضعیف قرار دیا۔
  • امام ابنِ حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: "اور ضیاء (المقدسی) پر (محمد بن أشرس) کا حال مخفی (پوشیدہ) رہ گیا۔”

نتیجہ: یہ طریق بھی شدید ضعیف ہے۔


 

دوسرا طریق: نافع ابو ہرمز کا تفرد

 

امام ابنِ عدی رحمہ اللہ (م 365ھ) نے اس روایت کا دوسرا طریق ذکر کیا ہے:

ثنا إبراهيم بن شريك، ثنا أحمد بن يونس، ثنا نافع أبو هرمز عن أنس قال : سئل رسول الله الله: من آل محمد ؟ قال: كُل تقي

📕 الكامل في ضعفاء الرجال 8/306

 

 سندی جائزہ: راویوں پر محدثین کا کلام

 

اس سند میں سب سے بڑا مسئلہ راوی "نافع ابو ہرمز” ہے، جس کا پورا نام نافع السلمی ابو ہرمز بصری ہے۔

  • امام ابنِ حبانؒ فرماتے ہیں: "اور مجھے اس (یعنی انس بن مالک) سے اس کا سماع معلوم نہیں، اس کی روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کی حدیث کو لکھنا جائز ہے…”۔
  • امام بیہقیؒ نے اپنی سند کے ساتھ اس روایت کو لانے کے بعد خود فرمایا: "اور ایسے شخص سے حجت لینا جائز نہیں۔” پھر انہوں نے مزید کہا کہ "یحیى بن معين نے اسے کذاب قرار دیا ہے، اور امام احمد بن حنبل اور دیگر حفاظِ حدیث نے اسے ضعیف کہا ہے۔”

نتیجہ: یہ طریق بھی ضعیف جدا ہے اور حجت نہیں۔


 

تیسرا طریق: محمد بن سلیمان کا تفرد

 

اس روایت کی تیسری سند کا ذکر شیخ البانی نے کیا ہے:

قال أبو بكر الشافعي : حدثنا محمد بن سليمان : ثنا أبو نعيم : ثنا مصعب بن سليم الزهري قال: سمعت أنس بن مالك به.

📕 سلسلة الأحاديث الضعيفة 3/469

سندی جائزہ: راویوں پر محدثین کا کلام

 

اس سند میں بھی راوی "محمد بن سلیمان” پر جرح موجود ہے۔

  • امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: "ابن حبان نے کہا: کسی بھی حال میں اس سے احتجاج کرنا جائز نہیں۔”
  • ابن عدی نے کہا: "یہ حدیث کو ملاتا ہے اور (حدیث) چوری کرتا ہے۔”
  • خطیب نے اسے حدیث گھڑنے (وضع) کا مرتکب قرار دیا۔
  • شیخ البانیؒ فرماتے ہیں: "یہ سند بہت ہی کمزور ہے… اور وہ (محمد بن سلیمان) متہم ہے… لوگوں نے اسے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔”

نتیجہ: یہ طریق بھی انتہائی ضعیف ہے۔


 

محدثین کے نزدیک روایت کا صحیح مفہوم و معنیٰ

 

خلاصہ یہ ہے کہ اس روایت "آل محمد کل تقی”   کے تمام طرق ضعیف جداً ہیں، اور ان میں موجود راوی متہم اور ضعیف ہیں۔ اس لیے اس سے احتجاج کرنا جائز نہیں۔ تاہم، اگر بالفرض یہ روایت صحیح ہوتی تو محدثین نے اس کا جو معنیٰ اور مفہوم بیان کیا ہے وہ کچھ یوں ہے:

  • امام ابو عبداللہ الحلیمیؒ (م 403ھ) فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مؤمن اور پرہیزگار لوگ آپ ﷺ کے قرابت دار ہوں وہی آپ کے "آل” ہیں۔ کافر آپ کے آل میں شامل نہیں، کیونکہ اللہ نے ولایت کو منقطع کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مؤمن و متقی شخص آپ کی آل میں شامل ہے، چاہے وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو۔ (المنهاج في شعب الإيمان 2/142)
  • امام اسماعیل بن محمد العجلونیؒ (م 1162ھ) نے بھی اسی کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ: ان احادیث کو آپ ﷺ کی آل میں سے کامل ترین افراد پر محمول کرنا چاہیے، ورنہ نسب کے اعتبار سے جو شخص آپ سے تعلق رکھتا ہے، وہ آپ کی آل میں شامل ہے، خواہ وہ متقی نہ بھی ہو۔ (كشف الخفاء ومزيل الإلباس 1/32)
  • امام احمد بن محمد القسطلانیؒ (م 923ھ) فرماتے ہیں: راجح قول کے مطابق "آلِ محمد” سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے، جیسا کہ امام شافعیؒ نے بھی صراحت کی ہے۔ اس کی تائید حضرت حسن بن علیؓ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ: "ہم آلِ محمد پر صدقہ حلال نہیں۔” (المواهب اللدنية 3/340)

حتمی نتیجہ:

ان تمام تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

  1. روایت "آل محمد کل تقی” سندی اعتبار سے انتہائی ضعیف اور باطل ہے۔ اس سے استدلال کرنا کسی صورت جائز نہیں۔
  2. اگر اس کا کوئی صحیح مفہوم فرض بھی کیا جائے تو محدثین نے اسے مطلقاً تمام امت پر محمول نہیں کیا، بلکہ اسے نسبی آل رسول کے ان افراد سے مخصوص کیا ہے جو متقی ہوں، یا ان کی قربانی و صدقے کے احکام سے متعلق سمجھا ہے۔
  3. لہٰذا، اس روایت کی بنیاد پر آلِ رسولﷺ کے مخصوص مقام و رتبے کو ختم کرنا یا کم کرنا دُرست نہیں ہے۔ راجح یہی ہے کہ آلِ رسولﷺ سے مراد وہ افراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور جن کا نسب آپ ﷺ سے ملتا ہے۔

تحقیق ازقلم: ذیشان برکاتی رضوی ✍

ایک تبصرہ چھوڑیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe Now

We let you receive the latest information on Islam, as well as offers, tips, and updates.
اوپر تک سکرول کریں۔