الحکمۃ

صحابہ کرام کے باہمی اختلافات اور حضور اکرم ﷺ کی تصریحات: راہِ اعتدال کی پہچان

تعارف: صحابہ کرام کے کرداروں کو مشکوک کرنے کی سازشیں اور اس کا توڑ

 

اہلِ باطل ہمیشہ اہلسنت کی صفوں میں گھس کر جنگِ جمل و صفین جیسے واقعات اور ان کی روایات کو بیان کرکے پہلے صحابہ کرام کے اختلافات پر ان کے کرداروں کو مشکوک کرتے ہیں اور پھر اپنا زہر بھرتے ہیں۔ اسی طرح، نواصب ان جنگوں کی بنیاد پر بعد میں پیدا ہونے والے مسائل کا ذمہ دار اہل بیت کو ٹھہراتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں بغض و عناد پیدا کرتے ہیں۔

لیکن اگر ان چیزوں کو فقط کلامِ رسول ﷺ کی روشنی میں سمجھا جائے تو اہلسنت کبھی بھی اعتدال سے نہیں بھٹک سکتی، اور نہ ہی انہیں کوئی گمراہ کر سکتا ہے۔ افسوس کہ ان احادیث کی شرح پر عام طور پر کم ہی بات کی جاتی ہے، اور اکثر لوگ ان حقائق سے ناواقف رہتے ہیں۔اس تاریخی پس منظر کو مزید سمجھنے کے لیے واقعہ کربلا: ایک جامع تعارف بھی پڑھیں۔

 

حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں احادیث اور ان کا فہم

 

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے تصادم کی وجہ بنا۔ اس موقع پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کچھ احادیث کو اپنی موقف کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔

 

الف: شام میں حق پر قائم رہنے والے گروہ کی حدیث

 

امام بخاری اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں:

حدثنا الحميدي، حدثنا الوليد، قال: حدثني ابن جابر، قال: حدثني عمير بن هانئ، انه سمع معاوية، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:” لا يزال من امتي امة قائمة بامر الله لا يضرهم من خذلهم، ولا من خالفهم حتى ياتيهم امر الله وهم على ذلك”، قال: عمير، فقال مالك بني خامر: قال معاذ وهم بالشام، فقال معاوية: هذا مالك يزعم انه سمع معاذا، يقول: وهم بالشام.

ترجمہ:

امام عمیر بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ "میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہیں۔”

عمیر نے بیان کیا کہ اس پر (صحابی رسول) حضرت مالک بن یخامر نے فرمایا: کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ (صحابی رسول) مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے (صحابی رسول) معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔

📕 صحیح البخاری برقم 3641

یہ وہ موقع تھا جہاں حضور اکرم ﷺ کے متعدد صحابہ کرام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے لیے جمع ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس فرمانِ رسول ﷺ کی بنیاد پر لوگوں کو سنایا، اور حضرت مالک بن یخامر رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی دی اور تصدیق کی کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے مطابق یہ گروہ اہل شام کا ہے۔ یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی میں ان کی ایک دلیل یہی روایت تھی۔

 

 ب: حضرت عثمانؓ اور ان کے پیروکاروں کے حق پر ہونے کی حدیث

 

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صرف ایک حدیث کی بنیاد پر خود کو حق پر نہیں مانتے تھے، بلکہ ایک اور روایت کو بھی دلیل بناتے تھے:

حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا معاوية، عن سليم بن عامر، عن جبير بن نفير، قال: كنا معسكرين مع معاوية بعد قتل عثمان رضي الله عنه، فقام كعب بن مرة البهزي، فقال: لولا شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت هذا المقام، فلما سمع بذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم اجلس الناس، فقال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ مر عثمان بن عفان رضي الله تعالى عنه مرجلا، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” لتخرجن فتنة من تحت قدمي او من بين رجلي، هذا يومئذ ومن اتبعه على الهدى” . قال: فقام ابن حوالة الازدي من عند المنبر، فقال: إنك لصاحب هذا؟ قال: نعم. قال: والله إني لحاضر ذلك المجلس، ولو علمت ان لي في الجيش مصدقا، كنت اول من تكلم به.

ترجمہ:

امام جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیمہ زن تھے، سیدنا کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی تو میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا، انہوں نے کہا: "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اپنے بالوں کو سنوارا اور چہرے پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اس (‏‏‏‏حضرت عثمان) کے قدموں کے نیچے سے فتنہ نکلے گا، اس وقت یہ (حضرت ‏‏‏‏عثمان) اور اس کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔”

منبر کے پاس سے حضرت ابن حوالہ ازدی کھڑا ہوا اور مجھے کہا: (‏‏‏‏کعب!) تو بھی اسی کا ساتھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں حاضر تھا، اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والے موجود ہیں تو اس کے بارے میں سب سے پہلے میں کلام کروں گا۔

📕 مسند احمد برقم: 18067، وسندہ جید

اس حدیث کو صحابی رسول ﷺ حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ نے بنیاد بنایا، اور پھر ان کی حدیث کی گواہی دوسرے صحابی رسول ﷺ حضرت ابن حوالہ الازدی رضی اللہ عنہ نے دی۔ یہ بات عیاں کرتی ہے کہ صحابہ کرام تقویٰ میں کس اعلیٰ درجہ پر تھے کہ حدیث رسول ﷺ کو تنہا ہونے کی صورت میں بھی بیان کرنے میں احتیاط فرماتے تھے، تاکہ کہیں لوگ انہیں متہم نہ کر دیں۔ ان کا یہ عمل نبی کریم ﷺ سے ان کے والہانہ تعلق اور عقیدت کی ایک خوبصورت مثال ہے

 

ج: اہل شام میں صحابہ کرام کی موجودگی 

 

شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ میں متعدد صحابہ کرام موجود تھے، جیسا کہ محدث حاکم اور امام ترمذی نقل کرتے ہیں:

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الصنعاني، ان خطباء قامت بالشام وفيهم رجال من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام آخرهم رجل يقال له: مرة بن كعب، فقال: لولا حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت، وذكر الفتن فقربها، فمر رجل مقنع في ثوب فقال: ” هذا يومئذ على الهدى "، فقمت إليه , فإذا هو عثمان بن عفان، قال: فاقبلت عليه بوجهه , فقلت: هذا، قال: نعم. قال ابو عيسى: هذا حسن صحيح، وفي الباب عن ابن عمر، وعبد الله بن حوالة، وكعب بن عجرة

ترجمہ:

ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، "ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے،” پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔

📕 سنن الترمذی برقم: 3704، وسندہ صحیح

📕 المستدرک التعليق – من تلخيص الذهبي 4552 – على شرط البخاري ومسلم

اور امام آجری نے بھی انہی الفاظ سے حدیث نقل کی ہے:

«هذا وأصحابه على الحق» فأتبعته فإذا هو عثمان رضي الله عنه

ترجمہ:

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے” اور میں نے جب دیکھا تو وہ شخص حضرت عثمانؓ تھے۔

📕 الشریعہ للآجری برقم: 1418، الاسناد صحیح

 

حضرت علیؓ کے حق میں احادیث اور ان کا فہم

 

جن دو روایات کی بنیاد پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گروہ کو حق پر مانا جاتا ہے، وہ درج ذیل ہیں:

 

 الف: حدیث عمار بن یاسرؓ

 

یہ معروف حدیث ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ چونکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے، اس لیے اس حدیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق پر ہونے کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔

 

 ب: خوارج سے جنگ کا حکم اور حق کے زیادہ قریب ہونے کا اشارہ 

 

دوسری روایت جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خوارج سے جنگ دو مسلمانوں کے گروہوں میں سے وہ لڑے گا جو "حق کے زیادہ قریب ہوگا”۔ اس حدیث کا اطلاق حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کیا جاتا ہے جنہوں نے خوارج سے جنگ کی۔

 

ائمہ فقہاء و محدثین کی تطبیق اور ابن حزمؒ کی تقسیم

 

ائمہ فقہاء، محدثین اور متکلمین نے حدیث عمار کو تو مختلف ابواب میں پیش پیش کیا، لیکن دوسری احادیث کے ساتھ تطبیق دینے میں کئی مقامات پر مشکل کا سامنا کیا۔ اس لیے ان جنگوں میں شامل ہونے والے صحابہ و تابعین کے درمیان خود اختلاف رہا کہ کون حق پر ہے۔ یہ اختلاف ائمہ اہلسنت میں بھی منتقل ہوا۔

علامہ ابن حزمؒ نے اپنی کتاب "الفصل فی الملل والاھواء والنحل” میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑی گئی جنگوں (جنگِ جمل، جنگِ صفین، اور جنگِ نہروان) پر صحابہ، تابعین اور دیگر گروہوں کے مذاہب کو بیان کیا ہے:

  • پہلا مذہب (بعض اہل سنت، تمام شیعہ، بعض مرجئہ، جمہور معتزلہ):

    یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جنگ میں حق پر تھے اور ان کے خلاف لڑنے والے سب خطا پر تھے۔

  • دوسرا مذہب (واصل بن عطاء، عمرو بن عبید، ابو الہذیل اور معتزلہ کے کئی گروہ):

    یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل نہروان کے ساتھ لڑائی میں حق پر تھے، لیکن اہل جمل کے ساتھ لڑائی میں ان کا موقف غیر واضح ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ دونوں میں سے ایک گروہ خطا پر ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ کون سا گروہ۔

    • خوارج کا نقطہ نظر: خوارج کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل جمل اور اہل صفین کے ساتھ لڑائی میں حق پر تھے لیکن اہل نہروان کے ساتھ لڑائی میں خطا پر تھے۔
  • تیسرا مذہب (جمہور صحابہ اور جمہور اہل سنت):

    حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبداللہ بن عمر، اور جمہور صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، اہل جمل، اور اہل صفین کے ساتھ جنگ میں غیر جانبداری کا موقف اپنایا۔ یعنی وہ نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حق پر کہتے ہیں نہ ان کے مخالفین کو جنگ جمل و صفین کے حوالے سے۔ (علامہ ابن حزم کے مطابق موجودہ دور میں یہ منہج فقط اہل حدیث میں ہے۔)

  • چوتھا مذہب (ایک جماعت صحابہ، اجلہ تابعین، اور بعد کے کئی لوگ):

    انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین (اہل جمل اور اہل صفین) کو درست قرار دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ان جنگوں میں موجود تھے۔ علامہ ابن حزم نے اس موقف کو نواصب کے ساتھ نہیں جوڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علامہ ابن حزم کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطائے اجتہادی کا موقف رکھنے والا گروہ بھی صحابہ اور جید تابعین کے مذہب پر ہے۔

 

ائمہ اہلسنت کی توجیہات اور تطبیق 

 

ہمارے ائمہ اہلسنت (متکلمین و فقہاء) نے عموماً حدیث عمار کو ہی بیان کیا اور پھر اس کے ارد گرد اپنے قیاسات کی عمارت قائم کی، جس کے نتیجے میں ان کے کلام میں بعض اوقات تضاد محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً، حدیث عمار کی شرح میں وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ پر "بغاوت” کا اطلاق کرتے ہیں، لیکن پھر باغی کی شرعی تعریف میں یہ بھی کہتے ہیں کہ باغی وہ ہوتا ہے جو مسلح ہو کر حاکم وقت کو چیلنج کرے۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ میں ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی (نہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے میں پہل کی اور نہ ہی ان کی خلافت کو چیلنج کیا)۔

اس تصادم کو ختم کرنے کے لیے متاخرین نے پھر "عرفی بغاوت” کی اصطلاح قائم کی تاکہ متقدمین ائمہ کے کلام اور تصریحات میں تصادم کو ختم کیا جا سکے۔

 

ائمہِ محققین کا موقف: ابن تیمیہؒ کا کلام اور ذہبیؒ کی تائید 

 

جن ائمہ نے ردِ روافض پر تحقیقی کام کیا، ان کی نظر وسیع تھی اور وہ نتائج و تحقیق کو جذبات کی روح سے نہیں دیکھتے تھے۔ ان میں سے علامہ ابن تیمیہ، امام ابن العربی اندلسی اور علامہ ابن خلدون شامل ہیں۔ ان پر بعض نے "نصب” کی جرح کرکے انہیں الگ کرنے کی کوشش کی۔

علامہ ابن تیمیہ کا اہل شام کے تعلق سے ایک بہترین نفیس کلام ہے جس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کلام کو امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی حمایت حاصل ہے، جو اپنی مشہور تصنیف "المنتقى من منهاج الاعتدال” میں علامہ ابن تیمیہ کا کلام نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الحمد لله المنقذ من الضلال المرشد إلى الحق الهادي من يشاء إلى صراطه المستقيم أما بعد فهذه فوائد ونفائس اخترتها من كتاب منهاج الإعتدال في نقض كلام أهل الرفض والإعتزال تأليف شيخنا الإمام العالم أبي العباس أحمد بن تيمية رحمه الله تعالى فذكر أنه أحضر إليه كتاب لبعض الرافضة في عصرنا يعني ابن المطهر منفقا لهذه البضاعة يدعو بها إلى مذهب الإمامية أهل الجاهلية ممن قلت معرفتهم بالعلم والدين فصنفه للملك المعروف الذي سماه فيه خدا بنده فالأدلة إما نقلية وإما عقلية والقوم من أكذب الناس في النقليات وأجهل الناس في العقليات ولهذا كانوا عند العلماء أجهل الطوائف وقد دخل منهم على الدين من الفساد ما لا يحصيه إلا رب العباد والنصيرية والإسماعيلية والباطنية من بابهم دخلوا والكفار والمرتدة بطريقهم وصلوا فاستولوا على بلاد الإسلام وسبوا الحريم وسفكوا الدم الحرام

ترجمہ:

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو گمراہی سے نجات دینے والا، حق کی طرف رہنمائی کرنے والا، اور جسے چاہے اپنے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔

اما بعد!

یہ چند فوائد اور نادر و قیمتی نکات ہیں جو میں نے کتاب "منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال” سے منتخب کیے ہیں — یہ کتاب ہمارے شیخ، امام، عالمِ ربانی ابو العباس احمد بن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ہے۔

انہوں نے ذکر فرمایا کہ: "میرے سامنے ہمارے زمانے کے ایک رافضی کا لکھا ہوا ایک رسالہ پیش کیا گیا — یعنی ابن المطہر (الحلی) — جو اپنی یہ پرانی کھوٹی پونجی بیچنے کے لیے اس رسالے کے ذریعے لوگوں کو امامیہ مذہب کی طرف دعوت دے رہا تھا — خاص طور پر ان جاہلوں میں، جنہیں علم و دین کی معرفت کم ہے۔ اس نے یہ کتاب اُس مشہور بادشاہ کے لیے تصنیف کی تھی جس کا نام اس نے خُدا بَندہ لکھا ہے۔”

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: "ان کی دلیلیں یا تو نقلی ہوتی ہیں یا عقلی۔ لیکن یہ لوگ نقلی دلائل میں سب سے زیادہ جھوٹے، اور عقلی دلائل میں سب سے زیادہ جاہل ہیں۔ اسی لیے یہ اہلِ علم کے نزدیک سب سے جاہل گروہ شمار ہوتے ہیں۔ اور ان ہی کے راستے سے دین میں وہ خرابیاں داخل ہوئیں جنہیں صرف ربِّ عباد (اللہ تعالیٰ) ہی شمار کر سکتا ہے۔”

"نُصَیریہ، اسماعیلیہ، اور باطنیہ انہی (رافضہ) کے دروازے سے داخل ہوئے۔ کافر اور مرتد انہی کے راستے سے پہنچے۔ یہاں تک کہ وہ بلادِ اسلام پر قابض ہو گئے، مسلمانوں کی عورتوں کو قید کیا، اور حرام خون بہایا۔”

اس کے بعد امام ذہبی نے علامہ ابن تیمیہ کا اہل شام کے تعلق کے حوالے سے کلام نقل کیا ہے:

وقد ثبت في الصحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خالفهم ولا من خذلهم قال مالك بن يخامر سمعت معاذا يقول هم بالشام قالوا وهؤلاء كانوا عسكر معاوية وفي صحيح مسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لا يزال أهل الغرب ظاهرين حتى تقوم الساعة قال أحمد بن حنبل أهل الغرب هو أهل الشام وقد بسطنا هذا في موضع آخر وهذا النص يتناول عسكر معاوية قالوا ومعاوية أيضا كان خيرا من كثير ممن استنابه علي فلم يكن يستحق أن يعزل ويولي من هو دونه في السياسة فليت عليا تألف معاوية وأقره على الشام وحقن الدماء فإذا قيل إن عليا كان مجتهدا في ذلك قيل وعثمان كان مجتهدا فيما فعل وأين الإجتهاد في تخصيص بعض الناس بولاية أو إمارة أو مال من الإجتهاد في سفك المسلمين بعضهم دماء بعض حتى ذل المؤمنون وعجزوا عن مقاومة الكفار حتى طمعوا فيهم وفي الإستيلاء عليهم ولا ريب أنه لو لم يكن قتال بل كان معاوية مقيما على سياسة رعيته وعلي مقيما على سياسة رعيته لم يكن في ذلك من الشر أكثر مما حصل بالإقتتال فإنه بالإقتتال لم تزل هذه الفرقة ولم يجتمعوا على إمام بل سفكت الدماء وقويت العداوة والبغضاء وضعفت الطائفة التي كانت أقرب إلى الحق وهي طائفة علي وصاروا يطلبون من الطائفة الأخرى من المسالمة ما كانت تلك تطلبه إبتداء ومعلوم أن الفعل الذي تكون مصلحته راجحة على مفسدته يحصل به من الخير أعظم مما يحصل بعدمه وهنا لم يحصل بالإقتتال مصلحة بل كان الأمر مع عدم القتال خيرا وأصلح منه بعد القتال وكان علي وعسكره أكثر وأقوى ومعاوية وأصحابه أقرب إلى موافقته ومسالمته ومصالحته فإذا كان مثل هذا الإجتهاد مغفورا لصاحبه فإجتهاد عثمان أن يكون مغفورا أولى وأحرى وأما معاوية وأعوانه فيقولون إنما قاتلنا عليا قتال دفع عن أنفسنا وبلادنا

ترجمہ:

امام ذہبی لکھتے ہیں: صحیح حدیث میں یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والا یا انہیں چھوڑ دینے والا ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔” حضرت مالک بن یخامر کہتے ہیں کہ میں نے معاذ بن جبل کو فرماتے ہوئے سنا: "یہ گروہ شام میں ہوگا۔” (بعض) لوگوں نے کہا: "یہ گروہ دراصل معاویہؓ کی فوج (عسکر معاویہ) تھی۔”

اور صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے یہ حدیث بھی مروی ہے: "اہلِ مغرب (مغربی علاقوں والے لوگ) ہمیشہ غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔” امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں: "اہل مغرب سے مراد اہلِ شام ہیں۔” ہم نے اس موضوع کی تفصیل کسی اور مقام پر بیان کر دی ہے۔

یہ نصوص (احادیث) حضرت معاویہؓ کی فوج پر بھی صادق آتی ہیں۔

ائمہ کا کہنا ہے کہ حضرت معاویہؓ، ان بہت سے لوگوں سے بہتر تھے جنہیں حضرت علیؓ نے مختلف علاقوں پر حاکم بنا کر بھیجا تھا۔ لہٰذا حضرت معاویہؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ کم تر سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد کو مقرر کرنا درست نہ تھا۔

کاش حضرت علیؓ معاویہؓ سے نرمی برتتے، انہیں شام پر باقی رہنے دیتے، اور یوں خونریزی سے بچا جاتا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت علیؓ نے اس معاملے میں اجتہاد کیا، تو جواب دیا جائے گا: حضرت عثمانؓ نے بھی جو کچھ کیا، وہ اجتہاد ہی تھا۔

لیکن غور کرو! کیا کسی کو کوئی علاقہ، حکومت یا مال عطا کرنے کا اجتہاد اس اجتہاد کے برابر ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا، مسلمان ذلیل و کمزور ہو گئے، اور کفار کو ان پر حملہ آور ہونے اور غلبہ پانے کا موقع مل گیا؟

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر قتال نہ ہوتا، اور معاویہؓ اپنی رعایا کی سیاست میں مشغول رہتے، اور علیؓ اپنی رعایا کی سیاست سنبھالے رکھتے، تو یہ صورت حال قتال سے بہتر اور کم نقصان دہ ہوتی۔ کیونکہ قتال کے نتیجے میں نہ تو امت متحد ہوئی، نہ ہی کوئی خلیفہ متفقہ طور پر منتخب ہوا، بلکہ خون بہا، عداوت اور بغض بڑھا، اور وہ جماعت جو حق کے زیادہ قریب تھی — یعنی علیؓ کی جماعت — وہ بھی کمزور ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ دوسرے فریق سے صلح مانگنے لگے، حالانکہ ابتداءً دوسرا فریق (یعنی معاویہؓ کا گروہ) ان سے صلح کا خواہاں تھا۔

یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی عمل جس میں خیر کی مصلحت اس کے شر پر غالب ہو، وہ بہتر ہے۔ لیکن یہاں قتال کے نتیجے میں کوئی مصلحت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ قتال کے بغیر جو حالت تھی، وہ بعد کے حالات سے زیادہ بہتر اور درست تھی۔ حالانکہ حضرت علیؓ اور ان کا لشکر تعداد اور طاقت میں زیادہ تھا، اور معاویہؓ اور ان کے ساتھی علیؓ سے قریب تھے موافقت، صلح اور مصالحت میں۔

پس، اگر حضرت علیؓ کا اجتہاد معاف کیا جا سکتا ہے، تو حضرت عثمانؓ کا اجتہاد تو بدرجہ اولیٰ معاف کیا جانا چاہیے۔ اور جہاں تک معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے، تو وہ کہتے ہیں: "ہم نے حضرت علیؓ سے جو قتال کیا، وہ صرف اپنی جان، اپنے علاقوں اور اپنی رعایا کے دفاع میں تھا۔”

📕 المنتقى من منهاج الاعتدال للذھبی

تاہم، یزید فاسق کے بارے میں علامہ ابن تیمیہ کا موقف بالکل دو ٹوک تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کا بھی آخرت پر ایمان ہے وہ کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کا حشر یزید کے ساتھ ہو۔ نیز فرماتے ہیں کہ یزید میں ایسی کوئی خوبی نہیں تھی جس کی وجہ سے اس کو پسند کیا جائے۔

 

خلاصہ: احادیث کی روشنی میں اختلافات کی تطبیق 

 

ان تمام روایات کا احاطہ کرنے کے بعد، ہم یوں تطبیق دے سکتے ہیں:

  1. حضور اکرم ﷺ کا فرمان کہ "اہلِ شام تا قیامت ہمیشہ غالب رہے گا” سے مراد یہ تھی کہ اہل شام چونکہ تا قیامت تک جنگ و جدل میں غالب رہیں گے تو ان کو شکست دینا ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ اتنا بڑے لشکر کے باوجود بھی کسی بھی لحاظ سے ان پر غالب نہ آ سکے۔
  2. دوسری روایت جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "حضرت عثمان اور ان کے ساتھی حق پر ہوں گے” سے مراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے قصاص لینے والے ہی ان کے ساتھی تھے، جنہوں نے اس مطالبے پر جنگیں لڑیں۔ یہ گروہ قصاص کا مطالبہ کرنے میں حق پر تھے۔
  3. پھر فرمان رسول ﷺ کہ "عمار تم کو باغی گروہ مارے گا” سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جو ساتھی قصاص کے مطالبے میں حق پر تھے، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کہ "پہلے بیعت کر لو پھر قصاص لیں گے” یعنی امرِ قصاص کو امرِ بیعت پر مقدم کرکے، وقت کے حاکم کے باغی ثابت ہوئے۔
  4. لیکن چونکہ یہ مسئلہ کفر، ایمان، اور حق و باطل کا نہیں تھا، بلکہ اجتہادی اور وہ بھی انتظامی (administrative) اختلاف کے باعث تھا، اس وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خوارج سے وہ گروہ لڑے گا جو مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں "حق کے زیادہ قریب ہوگا”۔

یعنی یہ تھے دونوں ہی حق پر، لیکن اجتہاد کے اعتبار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانِ رسول سے "اقرب علی الحق” (حق کے زیادہ قریب) تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت ان صحابہ کی جنگوں کی بنیاد پر کسی کے ایمان اور تقویٰ پر بات کرنا حرام و گمراہی قرار دیتی ہے۔

خلاصۃ کلام: فقط فرمانِ رسول ﷺ کو اگر ترتیب کے ساتھ پڑھ اور سمجھ لیا جائے تو اس باب میں آپ اہلسنت کے راہِ اعتدال پر مضبوطی سے قائم رہ سکتے ہیں۔

تحقیق: اسد الطحاوی ✍

ایک تبصرہ چھوڑیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe Now

We let you receive the latest information on Islam, as well as offers, tips, and updates.
اوپر تک سکرول کریں۔